<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

غربت کم کیوں نہیں ہوتی؟

ڈاکٹر صفدر محمود

پاکستان پہ اللہ پاک کی نعمتوں اور رحمتوں کا شمار کرنے لگوں تو یہ ایک کتاب کا موضوع ہے۔ آپ غور کریں کہ اتنی زرخیز زمین، لہلاتے کھیت، کھلے میدان، پہاڑ، بلند ترین چوٹیاں، سوئٹزر لینڈ سے بھی زیادہ قدرتی حسن والے علاقے، جنگلات، دریا اور آبپاشی کا بہترین نظام، گندم پیدا کرنے والا عالمی سطح پر ساتواں یا آٹھواں بڑا ملک، چار قسم کے موسم، محنتی کسان اور محنتی لوگ، آبادی کا تقریباً 30 فیصد نوجوان وغیرہ وغیرہ، ایسی نعمتیں ہیں جو بیک وقت دنیا میں بہت کم ملکوں کے حصے میں آئی ہیں۔ قدرتی وسائل کے خزانوں کا ذکر کروں تو سر شکر سے جھک جاتا ہے۔ کوئلے کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائر، ریکوڈک سونے، تابنے کی دنیا میں پانچویں بڑی کان، معدنی نمک کی دنیا کی سب سے بڑی کانیں، پٹرول، گیس، چاندی، کاپر اور نہایت اعلیٰ قسم کی دھاتیں ہماری زمین میں موجود اور پوشیدہ ہیں۔ ایک ماہر سائنسدان ثابت کر رہا تھا کہ اگر ہم محنت اور خلوص سے کام کریں تو ان شاء اللہ پٹرول برآمد کرنے والا ملک بن سکتے ہیں لیکن اگر ہم نے ان قدرتی وسائل کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ریکوڈک کے سونے چاندی، کاپر کے ساتھ کیا ہے تو ہم غربت کے چنگل سے نکل نہیں سکیں گے۔ انسانی وسائل کا یہ عالم کہ غیر معیاری تعلیمی نظام اور غیر معیاری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود ہمارے طلبہ امریکہ اور یورپی ممالک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ یہ تو اللہ پاک کی نعمتیں ہیں جن سے صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ فائدہ اٹھا کر ہم دنیا کی صف اول کی اقوام میں مقام بنا سکتے ہیں اور غربت کے بوجھ سے بھی چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ رہا سوئٹزر لینڈ اور دوسرے ممالک سے کرپشن کے دو سو ارب ڈالر پاکستان واپس لانا اور عمران خان کے وعدوں کے مطابق ان سے غیر ملکی قرضے ادا کر کے ملک میں خوشحالی کی ریل پیل کرنا تو سمجھ لیں کہ اس غبارے سے ہوا نکل چکی۔ اب تو دو سو ارب ڈالر کی فگر Figuerبھی مشکوک ہو چکی ہے۔ اس طرح کے شارٹ کٹ سے نہ غربت سے نجات ملے گی نہ خوشحالی کا سورج طلوع ہو گا۔ سیاسی نعروں کا حقائق سے اتنا تعلق نہیں ہوتا جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ اقتدار اور ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے جھوٹ کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ اس رویے نے سیاست اور جھوٹ میں فرق مٹا دیا ہے، البتہ اگر ہم قدرت کے عطا کردہ قدرتی وسائل کے خزانوں سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں تو خوشحالی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتے ہیں۔

میں نے نہایت مختصر انداز سے اللہ پاک کی پاکستان پر نعمتوں کا ذکر کیا ہے ورنہ فہرست طویل ہے۔ میرے نزدیک نعمت اور رحمت میں باریک سا فرق ہوتا ہے۔ اللہ پاک کی رحمتوں پر سطحی نظر ڈالوں تو سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ پاکستانی قوم دنیا بھر میں زکوٰۃ، صدقات، خیرات اور عطیات دینے والی سب سے بڑی قوم ہے۔ صدقہ دینے والا کبھی غریب نہیں ہوتا۔ سچی بات یہ ہے کہ میں جس طرف جاتا ہوں، جس محفل میں بیٹھتا ہوں اور جتنے لوگوں سے پالا پڑتا ہے ان میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو کسی نہ کسی فلاحی کام یا خدمت میں مصروف نہ ہو۔ اپنے اپنے وسائل کے مطابق کوئی بیوائوں کی مدد کر رہا ہے تو کوئی یتیم بچوں کی، کوئی تواتر سے قومی فلاحی اداروں کو عطیات دیتا ہے تو کوئی خفیہ انداز سے مستحق گھروں میں راشن پہنچاتا ہے، کوئی اپنی استطاعت کے مطابق مستحق مریضوں کی خدمت کرتا ہے تو کوئی علاج معالجے کی نگرانی کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ میرے مشاہدے کے مطابق ہماری قوم کا وسائل رکھنے والا معتدبہ حصہ کسی نہ کسی طرح کارِخیر میں حصہ ڈال رہا ہے۔ خدمت کا یہ جذبہ، کارِخیر کا شوق، نیکی کی خواہش اور کچھ کرنے کی آرزو میرے نزدیک اللہ پاک کی رحمت ہے۔

رحمتِ الٰہی کی یہی شکل وہ این جی اوز یا فلاحی ادارے ہیں جو ہمہ وقت قومی خدمت میں مصروف ہیں۔ الحمد للہ ہمارے ملک میں چھوٹی بڑی، گائوں قصبوں، شہروں سے لے کر ملکی سطح تک ایسی لاتعداد این جی اوز موجود ہیں جو کسی نہ کسی طرح فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ میں ملکی سطح کی این جی اوز بارے زیادہ نہیں جانتا لیکن جن کے اسمائے گرامی سے واقف ہوں اور جن کے کام سے متاثر ہوں وہ ہیں اخوت، سیلانی، الخدمت، ڈاکٹر آصف جاہ کی کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی وغیرہ اور پابندی کی زد میں آنے والی فلاح انسانیت اس کے علاوہ ایدھی، شوکت خانم، اخوت، الخدمت اور سیلانی وغیرہ عالمی سطح پر بھی نام کما چکی ہیں اور بیرون ملک پاکستانی ان پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ بےشمار فلاحی ادارے ایسے ہیں جن سے میں واقف نہیں اس لئے ان کا ذکر نہیں کر رہا۔ ان میں ایس او ایس اور زمرد خان جیسے حضرات کے ادارے بھی شامل ہیں اور غوثیہ کالج مظفر گڑھ بھی، جس کی نگرانی میں خود کررہا ہوں۔ ان اداروں میں یتیم بچوں کو مفت تعلیم، رہائش، کپڑے، کتابیں، علاج حتیٰ کہ ان کی ہر ضرورت پوری کی جاتی ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ غوثیہ کالج مظفر گڑھ کا میٹرک، ایف اے، بی اے کا رزلٹ سو فیصد رہتا ہے اور گزشتہ سال ہماری ایک بچی بورڈ میں ٹاپ بھی کر گئی۔ اخوت تین ملین (تیس لاکھ) خاندانوں میں77ارب روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کر چکی ہے۔ جس سے لاکھوں پاکستانی مالی حوالے سے اپنے پائوں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ اخوت ماڈل کو بطور ماڈل ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی یونیوسٹیوں میں پڑھایا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان کا اعزاز ہے جس کے لئے برادر عزیز ڈاکٹر امجد ثاقب دلی مبارک کا مستحق ہے۔ الخدمت نے ملک بھر میں فلاحی اداروں کا جال بچھا رکھا ہے اور دنیا بھر میں جہاں مسلمان کسی انسانی یا قدرتی آفت کا شکار ہوتے ہیں الخدمت ان کی خدمت کے لئے موجود ہوتی ہے۔ سیلانی کی خدمات ان گنت ہیں جن کا ذکر چند روز قبل ڈ اکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے متاثر کن انداز میں کیا تھا۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی این جی او بہت سے شہروں میں فلاحی کام کر رہی ہے اور تھر پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ تھر میں 650کنویں کھودنے کے ساتھ 25مساجد اور چھ اسکول بھی قائم کر چکی ہے۔ اب ڈاکٹر صاحب نے تھر میں غربت کے خاتمے کے لئے گرین فارم کی تحریک شروع کی ہے اور 30گرین فارم بنا کر 80ایکڑ میں گندم، سبزیاں وغیرہ اگا رہے ہیں۔ آپ تین لاکھ روپے سے ایک گرین فارم اور اسے سیراب کرنے کے لئے کنواں بنوا کر تھر کے غریب لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔ کالم اس سے زیادہ تفصیلات کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لئے جن کا ذکر نہیں ہو سکا ان سے پرخلوص معذرت۔

اب آپ ذرا غور کریں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہم پر کتنے انعامات، نعمتیں اور رحمتیں نازل کی ہیں۔ شکر گزاری کا جذبہ تب عروج پر پہنچے گا جب ان سے پوری طرح مستفید ہوں گے۔ ذرا سوچئے کہ ان تمام تر نعمتوں کے باوجود پاکستان میں غربت کیوں کم نہیں ہوتی؟ لوگ بھوک افلاس سے کیوں خود کشیاں کرتے ہیں؟ ماہرینِ معاشیات سے پوچھتا ہوں تو وہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو الزام دیتے ہیں، سیاستدان اس کی وجہ کرپشن بتاتے ہیں، تعلیمی حلقے قیادت کے قحط کو سبب سمجھتے ہیں، علماء حضرات اللہ سے دوری کو بے برکتی کی وجہ قرار دیتے ہیں، آپ بتائیں آپ کی کیا رائے ہے؟

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More