<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ایف بی آر کا ریٹرنز میں ناقابل ٹیکس آمدن ظاہر کرنیوالوں کیخلاف کارروائی پر غور

لاہور(محمد نواز سنگرا)ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز میں ناقابل ٹیکس آمدن ظاہر کرنیوالوں کیخلاف کارروائی پر غور شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف پہلے ہی مالی سال میں انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہے اور ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد تقریباً14لاکھ سے بڑھ کر18لاکھ تک پہنچ گئی ہے ،گوشورے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود رواں مالی سال کا سالانہ ہدف حاصل کرنے میں ناکامیوں کا سامنا ہے ۔ملک میں جاری معاشی بحران،تیل،گیس ،ڈالر، روز مرہ اشیا کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ،ٹیکس اہداف حاصل نہ کرنا حکومت اور ایف بی آر کیلئے لمحہ فکریہ ہے ،تقریباً چار لاکھ فائلرز کا اضافہ بھی اہداف حاصل کرنے میں کارآمد ثابت نہیں ہو سکا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک لاکھ سے زائد شہریوں نے ناقابل ٹیکس آمد ن کی ریٹزنز فائل کی ہیں تاکہ ان کا نام ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں آ جائے اور وہ گاڑی اور پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کافائدہ حاصل کر سکیں ۔ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ بورڈ ایسے تمام فائلر جنہوں نے ناقابل ٹیکس آمد ن ظاہر کی ، ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے اور ایسے لوگوں کا طرز زندگی چیک کیا جائے اور ان کے گھر کا ایڈریس چیک کیا جائے گا کہ ایک شہری کسی پوش سوسائٹی میں رہتے ہوئے ناقابل ٹیکس آمد ن کی ریٹرن فائل کیوں کر رہا ہے ۔ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ٹیکس اکٹھا کرنے کا رواں سال کا ہدف 45سو ارب سے کم کر کے 42سو ارب پر لایا گیا جبکہ اب امکان ہے کہ ٹارگٹ 38سو ارب تک لایا جائے گا۔سابق ممبر ایف بی آر شاہد حسین نے 92نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فائلرز نے ود ہولڈنگ ٹیکس کا فائدہ اٹھا نے کیلئے Nillکی ریٹرنز فائل کی ہیں، اب ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ ناقابل ٹیکس آمد ن ظاہر کرنے والوں کا آڈٹ کر کے ان کے اثاثے اور پراپرٹی چیک کرے اور فائلر نے جو پراپرٹی ٖظاہر کی ، اس کے ذرائع کیا ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More