<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

چین کا اضافی 313ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری رسائی دینے پر اظہار رضامندی

اسلام آباد(مہتاب حیدر)چین نے پاک۔چین آزاد تجارتی معاہدے(سی پی ایف ٹی اے)کے مجوزہ دوسرے مرحلے کے تحت اضافی 313ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی فری رسائی دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی ہے۔سی پی ایف ٹی اے کا دوسرا فیز یکم جولائی،2019سے فعال ہونے کی توقع ہے۔دونوں ممالک سی پی ایف ٹی اے۔IIپر اتفار رائے کرچکے ہیں، جس پر وزیر اعظم عمران خان دورہ چین کے موقع پر دستخط کریں گے۔پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد رواں ماہ کے آخر میں بیجنگ کا دورہ کرے گا ۔اعلیٰ عہدیدار نے اس حوالے سے کوئی تفصیل بتانے سے انکار کردیا ہے۔وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود وزیر اعظم اور کابینہ کو بریفنگ دیں گے ، جس کے بعد آئندہ چند روز میں میڈیا سے تفصیلات کا تبادلہ کیا جائے گا۔اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ کابینہ نظر ثانی شدہ سی پی ایف ٹی اے کی اجازت دے دی گی اور یہ نیا معاہدہ آئندہ مالی سال 2019-20سے موثر ہوجائےگا۔سی پی ایف ٹی اے کےدوسرے مرحلے کے تحت پاکستان نے بھی چین کو مراعات دینے پر رضامندی ظاہر کی ہےاور ان مراعات کو موثر ہونے میں مزید کچھ وقت لگے گا۔پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے(ایف ٹی اے)پر مشرف دور میں نومبر2006میں دستخط ہوئے تھےاور اس کا پہلا مرحلہ یکم جولائی،2007سے پانچ سال کے لیے موثرہوا تھا، جو 2012کو اختتام پذیر ہوا تھا۔ایف ٹی اے کے تحت پاکستان زیادہ تر خسارے میں ہی رہا۔اشیاکے حوالے سے پاک۔چین معاہدے پر 24نومبر،2006میں دستخط ہوئے تھے اور اس پر عمل درآمد یکم جولائی ،2007سے ہوا تھا۔اس معاہدے کے دو مرحلے تھے۔پہلے مرحلے کے تحت پاکستان کو 2423ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی تک کمی کرنا تھی، جب کہ چین کو 2681ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی تک کمی کرنا تھی۔اس معاہدے پر 21فروری ، 2009میں دستخط کیے گئے تھےاور پہلے مرحلے کا اطلاق 2007تا2012تک ہوا تھا۔سی پی ایف ٹی اے کے بعد دوطرفہ تجارت 2007-08کے دوران 4اعشاریہ777ارب ڈالرز سے بڑھ کر 16اعشاریہ597تک پہنچ گئی، جس میں پاکستان کی برآمدات 1اعشاریہ463ارب ڈالرز اور درآمدات 15اعشاریہ143ارب ڈالرز رہی۔چین نے جن ممالک سے آزاد تجارتی معاہدے کررکھے ہیں ان میں چلی، نیوزی لینڈ، سنگاپور، پیرو، کوسٹا ریکا اور آسیان وغیرہ شامل ہیں۔چین نے نیوزی لینڈ اور ملائشیا کو 94فیصد ٹیرف لائنز پر صفر فیصد ڈیوٹی دے رکھی ہے، جب کہ انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن کے ساتھ بھی 93فیصد ٹیرف لائنز پر صفر فیصد ڈیوٹی رکھی ہے۔جب کہ پاکستان کو صرف 35فیصد ٹیرف لائنز پر صفر فیصد ڈیوٹی دی ہے۔پاکستان صرف 253ٹیرف لائنز پر برآمدات کرسکتا ہے۔جہاں اوسط برآمدی قیمت 500ڈالرز یا زائد ہے، جو کہ کل ٹیرف لائنز (7550)کا تقریباً3اعشاریہ3فیصد ہے۔پاکستان خاص طور پر خام مال اور متوسط مصنوعات جیسا کہ کپاس سوت، بنے ہوئےفیبرک،خاکی فیبرک کی برآمدات کررہا ہے۔جب کہ افزودہ قیمت مصنوعات اس میں شامل نہیں ہیں۔پاکستان نے 80فیصد ٹیرف لائنز پرسی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کے اطلاق کی تاریخ سے ٹیرف کمی موڈیلٹی(ٹی آر ایم) کی تجویز دی ہے۔پاکستان نے سی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی تاریخ سے 20فیصد ٹیرف لائنز پر کوئی کمی نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔اگر پاکستان کو آسیان کے برابر اس کی ترجیحی فہرست میں سے 20مصنوعات پر چھوٹ دے دی جاتی ہے تو پاکستان کی چین کو برآمدات 257ملین ڈالرز تک بڑھ جائے گی۔دوسرے طریقہ کارکو مدنظر رکھا جائے تو اسلام آباد کی چین کو برآمدات 542ملین ڈالرز تک سالانہ بنیاد پر بڑھ سکتی ہے۔دوسری کٹیگری کے تحت پاکستان ، سی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کے قابل اطلاق ہونے سے 5سال کے لیے مصنوعات کےصفر ٹیرف اخراج پر 10فیصد ٹیرف لائنز کی درخواست کرسکتا ہے۔جب کہ تیسری کٹیگری میں ، پاکستان نے سی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کے قابل اطلاق ہونے کے 11ویں سال سے شروع ہونے والے5سال کے اندر مصنوعات کےصفر ٹیرف اخراج پر 30فیصد ٹیرف لائنز کی تجویز دی تھی۔اسلام آباد نے تجویز دی تھی کہ 20فیصد ٹیرف لائنز پر سی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کے اطلاق پر شامل ہونےسے کوئی کمی نہ کی جائے۔تاہم، چین نے یہ تجویز دی تھی کہ 70فیصد لائنز صفر پر مصنوعات کو نکالا جائے ، جب کہ 10فیصد لائنز صفر پر 5سال کے لیے مصنوعات کو نکالا جائے۔جب کہ 10سال کے اندر 10فیصد ٹیرف لائنز پر مصنوعات کو نکالا جائے ، جب کہ آخری اور چوتھی کٹیگری کے 10فیصد ٹیرف لائنز میںسی پی ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کے قابل اطلاق ہونے پر کوئی کمی نہ کی جائے ۔ریگولیٹری ڈیوٹی اکٹھی کرنے میں کمی کے پاکستان کے ممکنہ اخراجات تقریباً 300ملین روپے ہوں گے ۔اگر کٹیگری IIکا اطلاق ہوتا ہے تو سوت کی 46ٹیرف لائنز تحفظ کھوبیٹھیں گی۔سی پی ایف ٹی اے کے نتیجے میں پاکستان ٹیکسٹائلز اور پراسسڈ کھانوں کی برآمدات میں اضافہ کرسکتا ہے، جب کہ لائٹ کی تیاری ، چمڑے اور گوشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More