<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ن لیگ میں گونگے بہرے عہدیدار قبول نہیں , پارٹی رہنماؤں کے گلے شکوے

اسلام آباد (اجمل جامی،طارق عزیز) مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی میں یہ سوال بڑی شدو مد کیساتھ اٹھایا گیا کہ جس بیانیہ پر ووٹ لے کرپارلیمنٹ میں پہنچے وہ کہا ں چلا گیا ؟ پارٹی چیئرمین راجہ ظفرالحق نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی میٹنگ میں کہا کہ جو فیصلے ہوئے ہیں پہلے کرلینے چاہئیں تھے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج تنظیم سازی کی بات ہورہی ہے ، یہ کام اقتدار میں دو سال پہلے ہونا چاہیے تھا، تنظیم فعال اور متحرک شکل میں موجود ہوتی تو آج ہم تحریک چلانے کی پوزیشن میں ہوتے ، خواجہ سعد نے کہا کہ ہم سب نیب کو انفرادی طورپر بھگت رہے ہیں، پارٹی سطح پر ہمارا کیس لڑنے والا کوئی نہیں ہے ، سابق وفاقی وزیر سینیٹر کامران مائیکل سے کوئی ملنے تک نہیں گیا، حنیف عباسی بیچارا اکیلا لڑتا رہا ہے ، ان کے اہلخانہ نے بہت تکلیف اٹھائی ہے پنجاب میں محض قربانی دینے والے دیرینہ کارکنوں کو آگے لایا جائے ،تنظیم سازی پر کام تیز کیا جائے ، جو آج نامزدگیاں ہوئی ہیں میں ان کا مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہوں، نئے ذمہ داروں کو ویلکم کرتا ہوں۔ میں کسی پارٹی عہدے کا خواہش مند نہیں ۔شیخوپورہ سے ایم این اے جاوید لطیف نے ازخو د مائیک لیا اور کہا کہ آج ن لیگ کے اندر اسٹیبلشمنٹ جیت گئی ہے ، ہمیں مار کھانے کے لئے بھی کوئی آگے نہیں آنے دیتا، پارٹی کو ان حالات میں گونگے اور بہرے عہدیدار قبول نہیں۔ نواز شریف کا بیانیہ تو وہی ہے جو پہلے تھا، وہ تو وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے ، پارٹی کے کرتا دھرتا کہاں ہیں؟ ہماری پارٹی کے اندر اسٹیبلشمنٹ موجود ہے جو حکومت مخالف تحریک چلانے کے حق میں نہیں، قربانیاں دینے والے نہ صرف اقتدار بلکہ اپوزیشن میں بھی بیک بینچوں پر رہتے ہیں۔نواز شریف کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے لیکن ان کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے ،ہم بے سمت ہیں، خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر، رانا تنویر حسین کو پی اے سی کا چیئرمین نامزد کرنے کے لئے قرار دادیں خرم دستگیر اور احسن اقبال نے پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر بنانے کا فیصلہ بہت پہلے کرلیا گیا تھا تاہم وہ انکاری تھے ، اب نوازشریف ، شہباز شریف کے اصرار پر انہوں نے ذمہ داری قبول کی ہے ، خواجہ آصف کو پارلیمانی لیڈر نامزد کئے جانے بارے میں ن لیگ نے پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لیا ہے ، زرداری سے دوستی کی وجہ سے خواجہ آصف کو پیپلزپارٹی کی پارلیمان میں حمایت حاصل ہوگی۔ اجلاس کی صدارت راجہ ظفرالحق، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، رانا تنویر، مشاہد اللہ خان نے مشترکہ طور پر کی، شاہد خاقان عباسی کو پارٹی کا سینئر نائب صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنہیں قائم مقام صدر کے اختیارات حاصل ہوں گے ، شاہد خاقان عباسی کی بطور سینئر نائب صدر نامزدگی کا نوٹیفکیشن آئندہ چند روز میں متوقع ہے ،ملک بھر میں دورے ، تنظیم نو کی ذمہ داری بھی انہیں دی جائے گی، جن کی معاونت خواجہ آصف، احسن اقبال اور دیگر سینئر رہنما کریں گے ۔ شاہد خاقان عباسی کی تردید کے باوجود یہ اطلاع بھی زیر گردش ہے کہ اگر شہباز شریف کا لندن میں قیام بڑھ جاتا ہے تو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ شاہد عباسی کو دیا جا سکتا ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More