<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستان نے آئی ایم ایف کیلئے اپنی پالیسی کو آؤٹ سورس کرلیا

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ )غیر فعال اقتصادی ایڈوائزری کونسل کے رکن اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا ہے کہ بار بار آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے باوجود پاکستان کی معاشی صورتحال نہ بدلی، آئی ایم ایف کے پروگرام پر سوال اٹھتا ہے ، آئی ایم ایف پروگرام ملکی معیشت کیلئے سود مند ہونے کے بجائے اسے مزید نقصان پہنچائے گا ۔ بادی النظر میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ملکی معیشت کا انتظام سنبھالے جانے کے بعد پاکستان نے ان اداروں سے متعلق اپنی پالیسی سازی کو آوٹ سورس کرلیا ہے ۔نہ صرف یہ کہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ، ریونیو اور اقتصادی معاملات ڈاکٹر حفیظ شیخ کا تعلق ورلڈ بینک سے ہے بلکہ دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ریٹائر ملازمین کو بھی وزارت خزانہ میں کھپایا جارہا ہے ۔ یورپی یونین بھی میدان میں آگئی ہے اور ان کےامیدوار بھی وزارت خزانہ میں تعینات کئے جارہے ہیں ۔ اسی طرح عالمی مالیاتی اداروں میں نان کیڈر کا نوجوان اسٹاف بھی وزیراعظم کے دفتر سے جڑا ہوا نظر آرہا ہے ۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا کہ بیرون ملک سے لوگ پاکستان میں روزگار کیلئے آئیں گے وزارت خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ہاتھوں دے دی گئی جن کا تعلق ورلڈ بینک سے ہےاور اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر کے حوالے کردیا گیا ہے جن کا تعلق آئی ایم ایف سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو قوی امکان ہے کہ باقر رضا مرکزی بینک کے گورنر کے مشیروں کے طور پر آئی ایم ایف کے چند مزید ماہرین معاشیات کو لائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بادی النظر میں عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستانی معیشت کا انتظام سنبھال لیا ہے ۔ اب پاکستان کی معاشی تقدیر کیلئے مذاکرات ایک ایسی نئی معاشی ٹیم کرے گی جو میزب پر بیٹھے اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ مذاکرات کریں گے ۔ یہ ایک حیران کن عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبریں موجود ہیں کہ آئی ایم ایف ڈسکائونٹ ریٹ میں مزید اضافے ،ایکسچینج ریٹ میں گراوٹ اور بجلی وگیس کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجود حکومت کو وراثت میں جس طرح کی ز بوں حالی کا شکار معیشت ملی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ، جاری کھاتے کا خسارہ 19ارب ڈالر سے زائد ملاجبکہ بجٹ کا خسارہ 7فیصد سے زائد تھا اور اس کے وسائل کمی کا شکار تھے۔ ڈاکٹر اشفاق کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لئے پاکستان کی معیشت کاانتظام ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔ پاکستان کے پاس اب دو ہی آپشن بچے ہیں یا تو وہ اپنی تاریخ میں 22ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جائے یا پھر وہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے آزاد ہو کر رہنے کیلئے جدو جہد کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے بغیر رہنا سیکھنا ہوگا ۔انہوں نے اس بات کو جواز بنایا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ذرائع کو ایک طویل عرصے سے استعمال کررہا ہے اور 1958ءکے بعد سے لیکر اب تک آئی ایم ایف کے 21پروگرامز لے چکا ہے جبکہ اس نے2000 ءکے بعد سے آئی ایم ایف کے 4پروگرامز سے استفادہ کیا ہے۔ ان چار پروگرامز میں سے 3مکمل ہوئے تھے تاہم چوتھا پروگرام معطل کردیا گیا تھا اور اس وقت 2010 ءسے لیکر 2013 ءتک زرداری دور حکومت میں حفیظ شیخ کے پاس خزانے کا قلمدان تھا ۔ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام 2013 ءسے لیکر 2016 ءتک اگست 2016ء میں مکمل ہوا۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ برس ڈیووس میں اپنی ایک رپورٹ جاری کی اور وہ پاکستان کے حوالے سے بہت پرجوش تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کی حمایت کے بغیر بھی گذارا کرسکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے اس وقت پاکستان کے معیشت دانوں اور معاشی استحکام کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان معاشی ترقی کے لئے تیار ہے ۔ڈاکٹر اشفاق نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ آئی ایم ایف کے دو سالہ پروگرام کے کامیاب اختتام کے بعد ایک بار پھر پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مریض بیماری کے فوراً بعد ہی دوبارہ اس مرض میں مبتلا ہوجائے تو پھر ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے مرض کی صحت پر ادا کئے گئے بل پر سوال اٹھانے کا پورا پورا حق ہے حالاں کہ پہلے مرحلے کا اختتام نام نہاد کامیابی پر ہوا ہو۔ جب سے پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جارہا ہے مریض کو دی گئی دوا کی افاقیت پر سوال اٹھانا قانونی عمل ہے ۔ اسی لئے انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا مریض کو22ویں مرتبہ وہی دوائی دینے موثر ہوگا یا پھر تاریخ دوبارہ اپنے آپ کو دہرائے گی اور صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہوگی ۔ آئی ایم ایف کے نکتہ نظر سے ڈاکٹر اشفاق کا کہنا ہے کہ جب کسی ملک کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کاسامنا کرتا پڑتا ہے تو اس کی وجہ معیشت میں اضافی طلب ہوتا ہے ۔استحکام کی پالیسی کے لئے آئی ایم ایف کےاپنے پرانے اصول ہیں جو 1980ء سے چلے آرہے ہیں جسے عام طور پر ڈیمانڈ منیجمنٹ پالیسی ، اصلاحاتی پالیسی یا پھر اینٹی گروتھ پالیسی کہا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اشفاق نے بتایا کہ معاشی استحکام کے تی بنیادی آلات ہیں جن میں تغیر پذیر، لچکدار اور مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ ، سخت مالیاتی پالیسی اور مانیٹری پالیسی شامل ہیں ۔ ہر قسم کی سبسڈی کو ختم کرنا سخت مالیاتی پالیسی کا حصہ ہے ۔ تغیر پذیر ایکسچینج ریٹ پالیسی ہمیشہ تخفیف ذر یعنی کرنسی کی قدر میں کمی کا باعث بنتی ہے جسے عام طور پر مہنگائی کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے درآمد کی گئی مصنوعات کی قیمتوں میں مقامی کرنسی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس دبائو کا مقابلہ کرنے کے لئے مرکزی بینک کو فوری طور پر سخت مانیٹری پالیسی اپنانی پڑتی ہے جو ڈسکائونٹ ریٹ بڑھا دیتی ہے اورنتیجتاً شرح سود میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ شرح سود میں اضافے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔ اسی طرح سخت مالیاتی پالیسی سے حکومت کو زیادہ خرچ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال کہ جہاں سود کی ادائیگیاں ، دفاع اور سول ایڈمنسٹریشن کے اخراجات بلند سطح پر ہیں اخراجات میں کمی ڈیولپمنٹ کے شعبے میں ہوگی ۔ اسی لئے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسی کا ڈیزائن ایسا ہے کہ پرائیوٹ سیکٹر اورنہ ہی حکومت اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کرے گی جس کے نتیجے میں جی ڈی پی کی شرح کم ہوگی ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سرمایہ کاری میں کمی سے معیشت سست روی کا شکار ہوگی اور ہر سال نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں ناکامی ہوگی حالاں کہ ہر سال 15لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا اور ملک میں سماجی اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اسی طرح ڈالر مزید مہنگا ہوگا اور روپے کی قدر میں کمی سے سرکاری قرض میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسی طرح سخت مانیٹری پالیسی سے ڈسکائونٹ ریٹ بڑھے گا جس سے مالی لاگت بڑھے گی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More