<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ڈالر سوا 3 روپے مہنگا، شرح سود میں 1.5فیصد اضافہ ،مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے : سٹیٹ بینک

کراچی (کامرس رپورٹر) سٹیٹ بینک نے شرح سود میں1.50 فیصد اضافہ کر دیا جس سے آئندہ دو ماہ کے لئے شرح 10.75 سے بڑھ کر 12.25 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی، مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ ڈالر سوا 3 روپے مزید مہنگا ہوگیا۔گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مانیٹری پالیسی کی منظوری دی گئی ۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری زری پالیسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سٹاف کی سطح پر 39 ماہ پر محیط توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تقریباً 6 ارب ڈالر کیلئے اتفاق ہوگیا جس سے مزید بیرونی سرمایے کی آمد ہوسکے گی۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران حکومتی قرض گیری میں اضافہ بڑھتے ہوئے مالی خسارے کی عکاسی کرتا ہے ، خسارے کو پورا کرنے کے لئے مرکزی بینک پر زیادہ انحصار سے پچھلی زری سختی کا اثر ہلکا ہوگیاہے اور گزشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے اب تک شرح مبادلہ میں ساڑھے 39 فیصد کمی آئی اور 20 مئی 2019ء کو ڈالر 149.65 روپے پر پہنچ گیا۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال میں معاشی نمو سست ہونے جبکہ مالی سال 20ء میں کسی قدر بڑھنے کی توقع ہے ،یہ سست رفتاری زیادہ تر زراعت اور صنعت کی پست نمو کی وجہ سے ہے ، مالی سا ل 19ئمیں حقیقی جی ڈی پی نمو کا دوتہائی سے زائد حصہ خدمات سے آنے کی توقع ہے ، آگے چل کر آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام، شعبہ زراعت میں تیزی اور برآمدی صنعتوں کیلئے حکومتی ترغیبات کے تناظر میں مارکیٹ کے احساسات بہتر ہونے کے طفیل معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بحالی کی توقع ہے ،جولائی تا مارچ مالی سا ل 19ئمیں پچھلے سال کی اسی مدت کے 13.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں جاری کھاتے کا خسارہ کم ہوکر 9.6 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی 29 فیصد کمی ہوئی، اس کمی کا بنیادی سبب درآمدی کمی اور کارکنوں کی ترسیلات ِزر کی بھرپور نمو ہے ، تاہم اثر تیل کی بلند عالمی قیمتوں کی وجہ سے جزوی طور پر زائل ہو گیا، نان آئل تجارتی خسارہ جولائی تا مارچ مالی سال 18ئکے 13.7 ارب ڈالر سے گھٹ کر جولائی تامارچ مالی سال 19ئمیں 11.0 ارب ڈالر رہ گیا،برآمدی حجم بڑھنا شروع ہوگیا ہے لیکن ناسازگار نرخوں کی بنا پر مجموعی برآمدی وصولیاں نہیں بڑھی ہیں،جاری کھاتے میں بہتری اور سرکاری دوطرفہ رقوم کی آمد میں قابل ذکر اضافے کے باوجود جاری کھاتے کے خسارے کو پورا کرنے میں دشواریاں درپیش رہیں جس کے نتیجے میں ذخائر آخر مارچ 2019ء میں 10.5 ارب ڈالر سے کم ہوکر 10 مئی 2019ئکو 8.8 ارب ڈالر ہوگئے ۔سٹیٹ بینک کے مطابق چند دنوں میں طلب و رسد کے حالات کی بنا پر شرح مبادلہ بھی دبائو میں آگئی۔ سٹیٹ بینک کے نقطہ نظر سے شرح مبادلہ میں حالیہ اتار چڑھائو ماضی کے جمع شدہ عدم توازن کے مسلسل تصفیے اور کسی حد تک طلب و رسد کے عوامل کے کردار کی عکاسی کرتا ہے ،سٹیٹ بینک صورت ِحال کا بغور جائزہ لیتا رہے گا اور بازار ِمبادلہ میں کسی قسم کے ناگوار تغیر سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے ۔ مانیٹری پالیسی کے مطابق ذخائر کی موجودہ سطح کفایت (adequacy)کی معیاری سطح (تین ماہ کی درآمدات کے مساوی)سے نیچے ہے ، بھرپور ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ برآمدی شعبوں کی پیداواریت اور مسابقت بہتر ہو اور تجارتی توازن میں بہتری آئے ،محاصل کی وصولی میں کمی، بجٹ سے بڑھ کر سودی ادائیگیوں اور امن و امان سے متعلق اخراجات کی بنا پر جولائی تا مارچ مالی سال 19ء کے دوران مجموعی مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں خاصا بلند رہنے کا امکان ہے ،زری پالیسی کے نقطہ نظر سے مالیاتی خسارے کا بڑھتا ہوا حصہ سٹیٹ بینک سے قرض لے کر پورا کیا گیا ہے اوریکم جولائی سے 10مئی مالی سال 19ئکے دوران حکومت نے سٹیٹ بینک سے 4.8 ٹریلین(48 کھرب) روپے قرض لئے جو پچھلے برس کے اسی عرصے میں لی گئی رقم کا 2.4 گنا ہے ، اس قرض کا بڑا حصہ (3.7 ٹریلین روپے ) کمرشل بینکوں سے ہٹائوکی عکاسی کرتا ہے جو موجودہ شرحوں پر حکومت کو قرض دینے سے ہچکچا رہے تھے ،اس کے نتیجے میں خسارے کو پورا کرنے کے اقدامات سے مہنگائی کے دبائو میں اضافہ ہوا۔مرکزی بینک کے مطابق زری پالیسی کی حالیہ سختی کے باوجود یکم جولائی تا 10مئی مالی سال 2019ئکے دوران نجی شعبے کے قرض میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر یکم جولائی تا 10مئی زرِ وسیع کی رسد 4.7 فیصد بڑھ گئی، صارف اشاریہ قیمت (CPI) سال بسال بنیاد پر مارچ 2019ئمیں 9.4 فیصد اور اپریل 2019ئمیں 8.8 فیصد بڑھا،اوسط عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی جولائی تا اپریل مالی سال 19ئمیں 7.0 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 3.8 فیصد تھی،ایندھن کی ملکی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور غذائی اشیا کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور خام مال کی اضافی لاگت کی بنا پر گزشتہ 3 ماہ میں سالانہ بنیاد پرماہ بہ ماہ عمومی مہنگائی خاصی بڑھی ہے ، اس طرح مہنگائی کا دبائو کچھ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے ۔مرکزی بینک کے مطابق اوسط عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی مالی سال 19ئمیں متوقع طور پر 6.5-7.5فیصد کی حدود میں رہے گی اور مالی سال 20ئمیں اس سے بھی خاصی بلند رہنے کی توقع ہے ، مالی سال 20ئمیں مہنگائی کا یہ منظر نامہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں ردّوبدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیوں اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تغیر سے ابھرنے والے کئی خطرات سے مشروط ہے جو مہنگائی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ملکی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ پیرکو بھی برقرار رہا اور انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خریدمیں3.00روپے اورقیمت فروخت میں3.25روپے اوراوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت خریدمیں1.00روپے اور قیمت فروخت میں90پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس سے ڈالرکی قیمت نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق پیرکوانٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خریدمیں3.00روپے اورقیمت فروخت میں3.25روپے اضافہ ریکارڈ کیاگیا جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید147.50روپے سے بڑھ کر150.50روپے اور قیمت فروخت 148.25روپے سے بڑھ کر151.50روپے کی نئی بلندترین سطح پرپہنچ گئی۔اوپن کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت خریدمیں ایک روپے اور قیمت فروخت میں90پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید149.00روپے سے بڑھ کر150.00روپے اورقیمت فروخت150.00روپے سے بڑھ کر150.90روپے کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی۔یوروکی قیمت خریدمیں2.00روپے اورقیمت فروخت میں1.70روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت خریدمیں2.00روپے اورقیمت فروخت میں1.50روپے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا،اسی طرح سعودی ریال کی قیمت میں30پیسے اور یواے ای درہم کی قیمت خرید میں50پیسے اورقیمت فروخت میں40پیسے کامزیداضافہ ہوا، چینی یوآن کی قیمت خرید21.50روپے سے گھٹ کر21.00روپے اور قیمت فروخت23.00روپے سے گھٹ کر22.60روپے ہوگئی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More