<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

گلگت وبلتستان کوآئینی وعبوری صوبہ نہ بنانے کافیصلہ

اسلام آباد( شبیر حسین سے) قومی سلامتی کمیٹی نے موجودہ صورت حال کے پیش نظر گلگت وبلتستان کو آئینی و عبوری صوبہ نہ بنانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ۔ کمیٹی نے گلگت بلتستان کو انتظامی و مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مرتب شدہ اصلاحاتی مسودہ گلگت بلتستان اسمبلی و کونسل کا مشترکہ اجلاس بلا کر ایکٹ کی شکل میں منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے اصلاحاتی مسودہ کو عدالت میں پیش کرکے صدارتی آرڈر کے ذریعے نافذ کرنے کی بھی منظوری دیدی ۔ کمیٹی نے گلگت بلتستان کو حاصل پانچ سالہ ٹیکس چھوٹ اور گندم پر دستیاب سبسڈی کو برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کرلیا ۔ کمیٹی نے گلگت وبلتستان کو مشترکہ مفادات کونسل ، اقتصادی رابطہ کمیٹی ،قومی مالیاتی کونسل سمیت تمام آئینی اداروں میں گلگت وبلتستان کو بطور مصبر نمائندگی دینے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا معاملہ زیر غورآیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے فیصلہ کرلیا کہ موجودہ صورت حال میں گلگت بلتستان کو آئینی یا عبوری صوبہ نہیں بنایا جا سکتا تاہم وہاں کی حکومت کو بااختیار بنایا جائے گا۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ وزیراعلی گلگت وبلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو گلگت وبلتستان اسمبلی اور مقامی سیاسی جماعتوں کے موقف سے کمیٹی کو آگاہ کیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس مین گلگت بلتستان کی موجودہ انتظامی و آئینی نظام میں بہتر اصلاحات لانے کے لیے وزیراعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم ، وزیر امور کشمیر و گلگت و بلتستان علی امین گنڈا پور اور متعلقہ وزارتوں کے اعلی حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مل کر تمام قانونی پیچیدگیوں اور گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی حتمی سفارشات وزیراعظم پاکستان کو پیش کرے گی ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More