<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

تنخواہ دارطبقے کیلئے انکم ٹیکس چھوٹ حد کم کرکے 6لاکھ کرنیکی تجویز

اسلام آباد(ساجدچودھری)آئندہ وفاقی بجٹ برائے 2019-20 میں سرکاری ونجی اداروں کے تنخواہ داروں کیلئے انکم ٹیکس چھوٹ کی حد سالانہ 8 لاکھ روپے آمدن سے کم کرکے 6 لاکھ روپے تک لانے کی تجویز ہے ۔ اس تجویز پر عملدرآمد کی صورت میں سالانہ 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن قابل ٹیکس شمار ہوگی اور ماہانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ کی حد 66 ہزار 600 روپے سے کم ہوکر 50 ہزار روپے تک آجائے گی۔ اس تجویز سے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ روپیہ کی قدر میں پہلے ہی 37 فیصد کمی ہوچکی ہے اور افراط زر کی شرح 9 فیصد تک بڑھ چکی ہے ، اس طرح تنخواہ دار طبقہ پر 46 فیصد مہنگائی کا بوجھ پڑا ہے ، انکم ٹیکس کا بوجھ ڈال کر ملازمین کیلئے تنخواہوں میں 10 فیصد عبوری اضافہ بے معنی ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ن)نے اپنے آخری بجٹ میں 12 لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدن کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا، بعدازاں تحریک انصاف نے اپنے پہلے ضمنی بجٹ میں انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کم کرکے 8 لاکھ روپے سالانہ مقرر کی تھی۔ اب وفاقی بجٹ کی تیاری میں مصروف حکام نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں انکم ٹیکس سے استثنیٰ کی حد مزید کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔ ذرائع نے بتایا انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے تک لانے کے بعد انکم ٹیکس سلیب کوازسرنو ترتیب دیا جائے گا۔ جس کے تحت جو پرانی شرحیں بحال کی جائیں گی ، ان میں ممکنہ طور پر 6 لاکھ سے زائد اور 8 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے فکس ٹیکس اور 6 لاکھ سے 8 لاکھ کے درمیان آمدن 5 فیصد انکم ٹیکس، 8 لاکھ سے 14 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 14 ہزار 500 روپے فکس ٹیکس اور 10 فیصد انکم ٹیکس، 14 لاکھ سے 15 لاکھ روپے آمدن پر 79 ہزار 500 روپے فکس ٹیکس اور 15 فیصد انکم ٹیکس، 15 لاکھ سے 18 لاکھ روپے کی سالانہ آمدن پر 92 ہزار روپے فکس ٹیکس اور 15 فیصد انکم ٹیکس، 18 لاکھ سے 25 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 1 لاکھ 37 ہزار روپے فکس ٹیکس اور 17.5 فیصد انکم ٹیکس، 25 لاکھ سے 30 لاکھ تک سالانہ آمدن پر 2 لاکھ 59 ہزار 500 روپے فکس ٹیکس اور 20 فیصد انکم ٹیکس، 30 لاکھ سے 35 لاکھ سالانہ آمدن پر 3 لاکھ 59 ہزار 500 روپے فکس ٹیکس اور 22.5 فیصد انکم ٹیکس، 35 لاکھ سے 40 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 4 لاکھ 72 ہزار روپے فکس ٹیکس اور 25 فیصد انکم ٹیکس، 40 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 5 لاکھ 97 ہزار فکس ٹیکس اور 27.5 فیصد انکم ٹیکس، 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن پر 14 لاکھ 22 ہزار روپے فکس ٹیکس اور 30 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More