<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

پاکستانی متوسط طبقے کا کچومر نکل رہا ہے

اسلام آباد(رائٹرز)بڑھتی مہنگائی کے باعث عمران خان حکومت کو سخت دباؤ کا سامنا ہے ، آئی ایم ایف کا حالیہ پیکیج پاکستان کے اس متوسط طبقے کا کچومر نکال رہا ہے جو عمران خان کو اقتدار میں لایا۔ آبپارہ جوکہ اسلام آباد کی سب سے پرانی مارکیٹ ہے ، وہاں راشد محمود کی گارمنٹس کی دکان ہے ۔ راشد کے مطابق گزشتہ ایک سال سے اس کی سیل بہت گر چکی ہے ، چھ ماہ سے حال بہت برا ہے ، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس نے کوئی سیل نہیں کی۔ کم شرح سود، بھاری قرضوں اور کرنسی کی بہتر قدر سے درآمدات اور اخراجات میں اضافے سے معاشی نمو کا جو تاثر قائم ہوا، ختم ہو چکا ہے ۔ اپنے ہر پیشرو کی طرح کرپشن کے خاتمے اور لاکھوں ملازمتیں پیدا کرنے کے نعرے کیساتھ اقتدار میں آنیوالے عمران خان کوبھی مجبور ہو کر آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا تاکہ ادائیگیوں کے توازن کا بحران ٹال سکیں۔ روپے کی گرتی قدر کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔ سٹیٹ بینک جس نے رواں ہفتے شرح سود 13.25فیصد کر دی، کے اندازے کے مطابق رواں سال افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ اس صورتحال نے اگرچہ غریبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے ، تاہم متوسط طبقے پر دباؤ عمران خان کیلئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے ، کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران شہری متوسط طبقے میں عمران خان تیزی سے مقبول ہوئے تھے ۔ ہری پور کی عابدہ جہاں جس کا شوہر فوڈ فیکٹری بند ہونے کے باعث بے روزگار ہو چکا ہے ، نے بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو فلاحی ریاست بنانے اور پٹرول کی قیمت 45روپے فی لیٹر کرنے کے وعدے کئے تھے ۔ جدید دور کی مصنفہ عمارہ مقصود کہتی ہیں کہ پاکستان میں متوسط طبقے کی بڑھتی تعداد نے شہروں کے منظرنامے کونئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا، حالیہ کچھ برسوں کے دوران غیر ملکی برانڈز رکھنے والے شاپنگ مالز اور فاسٹ فوڈ چین تیزی سے وجود میں آئے ۔ موجودہ صدی کی پہلی دہائی میں خوشحالی کی جو لہر پیدا ہوئی، اس کے نتیجے میں صارفین کی ضروریات پوری کرنے کیلئے موبائل فون، کپڑوں کے علاوہ قسطوں پر موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کی فراہمی میں مصروف کاروباری حضرات آج خود کو سخت دباؤ میں محسوس کرتے ہیں۔ حکومت اس صورتحال کا ذمہ دار ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن خصوصاً سابق وزیراعظم نواز شریف کو قرا ردیتی ہے جن کے انفرا سٹرکچر کے بڑے منصوبے معاشی نمو میں اضافے مگر زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا باعث بنے ۔ ہوم اپلائنس سٹور کے مالک فواد سبہانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ ہمیں بدعنوانوں کو نکالنے کی سزا مل رہی ہے ۔ وہ چور تھے ، مگر ایسے چور تھے جن کی نہ صرف اپنی بلکہ ان کے دوستوں کی بھی جیبیں بھری ہوئی تھی

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More