<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

ایف بی آر کا بیرون ملکی اشیاء کی درآمدی دستاویزات کی تصدیق کے لئے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ

کسٹمز ایکٹ 1969کے تحت ایف بی آر کو قانونی اختیار حاصل ہے

اسلام آباد (نیوز پلس)ایف بی آ ر نے بیرون ملکی اشیاء کی درآمدی دستاویزات کی تصدیق کے لئے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سمگلنگ کی روک تھام کے لئے ایف بی آر نے مرحلہ وار پروگرام کے تحت لوکل مارکیٹوں میں دستیاب بیرون ملکی اشیاء کے درآمدی دستاویزات کی تصدیق کا فیصلہ کیا ہے۔ کسٹمز ایکٹ 1969کے تحت ایف بی آر کو قانونی اختیار حاصل ہے جس کے مطابق ایف بی آر صارفین کو بیچی جانے والی بیرون ملکی اشیاء کی تصدیق کے لئے فروخت کنندہ سے درآمدی دستاویزات کو طلب کر سکتاہے۔ اس سلسلے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکم ستمبر 2019سے ایف بی آر کی خصوصی مشترکہ ٹیمیں تمام بڑے شہروں کے بڑے شاپنگ علاقوں کا دورہ کریں گی اور بیرون ملکی اشیاء کے درآمدی دستاویزات چیک کریں گی۔ اس مشق کو تاجروں کے خلاف چھاپوں کا نام نہ دیا جائے بلکہ اس کاروائی کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کر لی جائے کہ بیرون ملکی اشیاء کے درآمدی دستاویزات موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر اس مشق کو تجرباتی طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ مشترکہ ٹیموں کی سربراہی تجربہ کار افسر کے سپرد کی جاے گی۔ موقع پر درآمدی دستاویزات کی فراہمی نہ ہونے پر دوکاندار کو مہلت دی جائے گی کہ وہ مقررہ وقت تک دستاویزات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ممبر کسٹمز آپریشنز اور ممبر آئی آر آپریشنز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ مشترکہ ٹیموں کو ہر ممکن مدد فراہم کریں اور تمام مشق کی نگرانی کریں۔ ڈائریکٹر جنرلز کسٹمز (انٹیلیجنس اینڈ انوسٹیگیشن) اور ڈائیریکٹر جنرل آئی آر (انٹیلیجنس اینڈ انوسٹیگیشن)کو اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے۔ مشترکہ ٹیموں سے متعلقہ کسی بھی قسم کی شکایت کو تاجران ایف بی آر کی ہیلپ لائن 772-772-111 یا ای میل Helpline@fbr.gov.pkپر درج کراسکتے ہیں۔ یہ اقدامات سمگلنگ کی روک تھام میں معاون ثابت ہوں گے اور ملکی معیشت اور صنعتی سرگرمیوں کو مزید نقصانات سے بھی بچائیں گے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More