<
Breaking News Pakistan - بریکنگ نیوز پاکستان
پاکستان، سیاست، کھیل، بزنس، تفریح، تعلیم، صحت، طرز زندگی ... کے بارے میں تازہ ترین خبریں

کمشنر راولپنڈی اور ڈی جی آر ڈی اے سخت نوٹس کے بعد چکری روڈ کی چھوٹی سوسائٹیوں نے دوڑیں لگا دی

متعدد سوسائٹیوں نے فیصل ٹاؤن فیز ٹو سمیت دیگر بڑے ناموں کو زمینیں فروخت کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں ، ذرائع

فائلوں کی شکل میں پلاٹ خریدنے والوں نے مالکان اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے دفتر کے چکر لگانا شروع کر دیے ، ذرائع

 

کوئی بھی غیر قانونی اور غیر منظور شدہ میں سرمایہ کاری نہیں کرے ترجمان آر ڈی اے حافظ عرفان ، کوئی بھی چاہے تو موقف دے سکتا

ہے ، ادارہ

راولپنڈی (بریکنگ نیوز پاکستان ) راولپنڈی چکری روڈ پر متعدد چھوٹی سوسائٹیوں کی جانب سے اپنی ساری زمینیں فیصل ٹاؤن فیز ٹو اور بلو ورلڈ کو فروخت کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں جس کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی جا رہی ہے اور ان چھوٹی سوسائٹیوں کی فائلیں خریدنے والوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کے ڈوب جانے کے ڈر سے سوسائٹی مالکان کے پیچھے پیچھے دوڑیں لگا رہے ہیں ۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ راولپنڈی میں چکری روڈ پر بڑھتی ہوئی زمینوں کی قیمتوں کی وجہ سے یہاں پر سو کنال کے مالکان نے بھی من مرضی کے نام رکھتے ہوئے سوسائٹیاں بنا رکھی ہیں اور پہلے ہی اصل جگہ سے زیادہ زمین فائلوں کی شکل میں فروخت کر چکے ہیں اور موجودہ کمشنر راولپنڈی کی جانب سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں خریدوفروخت پر پا بندی عائد ہونے کے بعد چھوٹی چھوٹی سوسائٹیوں نے اپنے زمینیں بڑی سوسائٹیوں کو سیل کرنے کیلئے رابطے شروع کر دیے ہیں اور جیسے ہی اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لٹا جانے کی اطلاع ملتی ہے ان سوسائٹیوں میں فائلوں کے خریدار مالکان اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے دروازوں پر پہنچتے جا رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ چکری روڈ پر چھوٹی بڑی سبھی غیر قانونی ہاؤسنگ سو سائیٹوں کی خریدوفروخت پر نا صرف پا بندی عائد ہے بلکہ متعدد مالکان پر مقدمات درج کروانے کے بھی آر ڈی اے کی جانب سے دعوے کیے جا رہے ہیں اور اگر اب چکری روڈ کی چھوٹی سوسائٹیوں ایک دم سے سب کچھ بیچ کر غائب ہوتی ہیں تو متاثرین کی تعداد سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں میں پہنچ جائیگی جبکہ ترجمان آر ڈی اے پہلے ہی متعدد بار مختلف طریقوں سے عوام کو بتا چکے ہیں کہ غیر منظور شدہ اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری نہیں کریں کسی کے نقصان کا ذمہ دار ادارہ نہیں ہوگا یعنی کہ اگر کوئی بھی سوسائٹی اپنی ساری حقیقی زمین فروخت کرکے مارکیٹ سے جاتی ہے تو اسکے متاثرین کے پاس داد و فریاد کیلئے کوئی دروزاہ باقی نہیں رہے گا ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Comments
Loading...

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More